حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی صدر، امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلِ بیتؑ، سندھ بیان ایاز علی خاکی نے کہا کہ آج دل غم سے بوجھل، آنکھیں اشک بار اور زبان سوگوار ہے۔ ہم ایک ایسے عظیم رہبر، مدبر، فقیہ، عارف اور مجاہدِ اسلام کو الوداع کہہ رہے ہیں جس نے اپنی پوری زندگی اسلامِ محمدیؐ، مکتبِ اہلِ بیتؑ، امتِ مسلمہ کی وحدت، مظلوموں کی حمایت اور ظلم و استکبار کے خلاف استقامت کے ساتھ بسر کی۔
انہوں نے مزید کہا رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ نے اپنی حکیمانہ قیادت، بے مثال بصیرت، شجاعت اور استقامت سے نہ صرف ملتِ ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو امید، بیداری اور عزتِ نفس کا درس دیا۔ آپ کی زندگی ایمان، تقویٰ، صبر، استقامت اور خدا پر کامل توکل کا روشن نمونہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم اگرچہ آپ کے جسدِ خاکی کو الوداع کہہ رہے ہیں، مگر آپ کا فکر، آپ کا پیغام، آپ کی جدوجہد اور آپ کا مشن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ شہداء کبھی مرتے نہیں، بلکہ اپنے رب کے حضور زندہ رہتے ہیں، اور ان کا خون حق کی راہوں کو ہمیشہ روشن رکھتا ہے۔
امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیمات اہل بیت پاکستان کے صدر نے کہا کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، حق و عدالت، وحدتِ امت، مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خلاف استقامت کے اس مشن کو اپنی بساط کے مطابق جاری رکھیں گے اور شہداء کے راستے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلِ بیتؑ، سندھ کی جانب سے ہم رہبرِ معظمؒ کے اہلِ خانہ، ملتِ ایران، امتِ مسلمہ اور تمام محبانِ اہلِ بیتؑ کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمدؐ کے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
الوداع اے رہبرِ مقاومت!
الوداع اے پاسبانِ امت!
الوداع اے علمبردارِ حق و عدالت!









آپ کا تبصرہ